Landsforbundet Mot Stoffmisbruk (LMS) کیا ہے؟

LMS ایک تنظیم ہے جو خاندانوں اور دوسرے افراد کو ایسی صورتحال سے نمٹنے میں مدد دیتی ہے جب ان کا کوئی دل عزیز منشیات کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہماری اہم ترین مہم معلومات اور رہنمائی فراہم کرنا ہے جو کہ علم اور ذاتی تجربے پر مبنی ہیں۔

منشیات کے عادی شخص کے قریب ہونے کا کیا مطلب ہے؟

کسی بھی فرد کو اپنے خاندان میں، دوستوں یا رفقائے کار کے درمیان منیشات کے عادی شخص کا تجربہ ہوسکتا ہے۔ منشیات کی عادت جغرافیائی سطح پر اور مختلف سماجی طبقات میں بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے۔ روز مرہ زندگی اکثر پریشانی اور افراتفری میں ضائع ہوجاتی ہے۔ جب کوئی دل عزیز شخص منشیات میں مبتلا ہوجاتا ہے تو یہ جاننا آسان نہیں ہوتا ہے کہ کیا کرنا چاہیئے اور کس کی مدد تلاش کرنی چاہیئے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کے بارے میں کسی سے بات کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

ہم LMS میں آپ کی مدد کس طرح کرسکتے ہیں؟

آپ کو معلومات اور معاونت فراہم کرکے اور آپ کی صورتحال میں مبتلا دیگر افراد سے آپ کی ملاقات کرکے آپ کی مدد کرتا ہے. ہم آپ کی مدد ایسے کرتے ہیں:

 آپ کے اپنے حقوق اور مواقع کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہيں  •
تقریبات منعقد کرتے ہیں اور اپنے خیالات اور جذبات کو پروان چڑھاتے ہیں  •
اپنی صحت کی ضروریات کی حفاظت کرنے کے طریق کار کے بارے میں مشورہ فراہم کرتے ہیں   • منشیات/ادویات کو غلط طریقے سے استعمال کرنے والے شخص کے ساتھ رہنے سے پیدا ہونے والی کشیدگی سے نمٹنے کیلئے مدد اور معاونت حاصل کرنے میں آپ کی مدد کرتے ہیں •
اپنے آپ میں یا اپنے نیٹ ورک میں وسائل تلاش کرنے میں مدد دیتے ہیں   •

آپ کسی سے بات کرنا پسند کریں گے؟

ہماری ویب سائٹ پر فارم مکمل کرکے رابطہ قائم کریں

ای میل کے ذریعے رابطہ قائم کریں یا Tøyen میں ہم سے بات چیت کرنے کیلئے ہمارے دفاتر میں تشریف لائيں۔
دونوں خدمات مفت میں پیش کیے جاتے ہیں۔ برائے مہربانی بیان کریں کہ آپ اپنی جانچ میں کس قسم کا مکالمہ پسند کریں گے۔
ہم آپ کا ای میل ایڈریس دیکھ سکتے ہیں لہذا یہ خدمت مکمل طور پر گم نامی فراہم نہیں کرسکتی ہے۔

بات چیت کا جواب: پہلے ہم آپ سے میل کے ذریعے آپ کی جانچ/سوال وصول کرتے ہیں، جو ہم مترجم کو بھیجتے ہیں۔ پھر ہم آپ کے ساتھ ہمارے آفس میں ملاقات کی تاریخ طے کرتے ہیں اور ہمارے ساتھ ایک مترجم ہوتا ہے۔ یہ خدمت مفت میں پیش کی جاتی ہے۔   •
ای میل کے ذریعے جواب: پہلے ہم آپ سے میل کے ذریعے آپ کی جانچ/سوال وصول کرتے ہیں، جو ہم مترجم کو بھیجتے ہیں۔ پھر ہم جواب لکھتے جو ہم آپ کو بھیجنے سے پہلے مترجم کو بھیجتے ہیں۔ یہاں جواب دینے کا دورانیہ دو ہفتوں تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ خدمت مفت میں پیش کی جاتی ہے۔   •

منشیات کے بارے میں معلومات

کسی دوسرے شخص کے نشے کی عادت کو دریافت کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا ہے۔ اکثر نشے کی عادت کے اشارے دیگر طور پر سمجھے جاتے ہیں۔ تمام منشیات زیر اثر شخص کے موڈ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بری حالت اور توجہ دینے میں دشورای منشیات کی عادت کی علامات ہیں۔ علامات کا انحصار منشیات کی قسم، طرز حیات اور منشیات استعمال کرنے کے عرصے پر ہے۔ اکثر آپ کو فرد کے شخصی، سماجی رویوں میں تبدیلیاں اور جسمانی تبدیلیاں نظر آئيں گی۔
جب کوئی دل عزیز شخص منشیات میں مبتلا ہوجاتا ہے تو یہ جاننا آسان نہیں ہوتا ہے کہ کیا کرنا چاہیئے اور کس کی مدد تلاش کرنی چاہیئے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کے بارے میں کسی سے بات کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کو شک ہے، یا مزید معلومات جاننا چاہتے ہیں تو برائے مہربانی رابطہ کریں۔

ہم سے آج رابطہ کریں۔

الکحل ایک ایسی نشہ آور شئے ہے جو ناروے میں اور بین الاقوامی پیمانے پر بھی وسیع پیمانے پر کافی زیادہ پھیلا ہوا ہے۔  الحکل یکساں کیمائی مادوں پر مشتمل گروپ کے لیے ایک مجموعی اصطلاح ہے۔ بیئر، وائن اور شراب میں پائی جانے والی نشہ آور شئے ایتھانول ہے۔ اس کا اثر غنودگی پیدا کرتا ہے اور یہ مرکزی اعصابی نظام کو بند کردیتا ہے، لیکن الکحل کی کم خوراک کا بھی نشاط انگیز اثر ہوتا ہے۔

ایتھانول ناروے میں 18 سال  سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے ایک قانونی نشہ آور شئے ہے۔ 22% سے زیادہ ایتھانولوالی الکحل مشروبات خریدنے کے لیے آپ کی عمر کم از کم 20 سال ہونی ضروری ہے۔

الکحل کی تھوری مقدار سے عام طور پر صحتمند لوگوں کو معمولی خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ تاہم، زیادہ مقدار میں لینے کی وجہ سے مدہوشی ہوتی ہے، جس کے سبب حادثوں اور چوٹوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ الکحل کئی دواؤں اور منشیات، اور جسم کے ذریعہ ان کے تئیں ردعمل کو بھی متاثر کرتا ہے۔

حشیش، حشیش کے پودے سے حاصل ہونے والی تین پروڈکٹس کے لیے اصل (جنرک) اصطلاح ہے: حشیش، ماری جوآنا اور حشیش کا تیل۔ کلیدی فعال اجزاء ­ کو  THC (ٹیٹرا ہائيڈورکینابینول) کہا جاتا ہے، جو تیاری اور پروڈکٹ کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ حشیش لینے کا سب سے عام طریقہ اسے دھویں کے ذریعہ لینا یا اسے کھانا ہے۔ دھویں کے ذریعہ لینے سے تیز ترین اثر ہوتا ہے۔ اسے پائپ کے ذریعہ، یا نام نہاد ‘جوائنٹ’ (سگریٹ جس میں حشیش ملی ہوتی ہے، اسے اکثر تمباکو میں ملایا جاتا ہے) کے ذریعہ لیا جاتا ہے۔

حشیش کے اثرات کو دو مرحلوں میں بانٹا جاسکتا ہے۔ پہلا مرحلہ مختصر ہوتا ہے، اور اس میں اکثر شرح قلب میں اضافہ، بھوک میں اضافہ، غنودگی اور دماغ کی بڑھی ہوئی سرگرمی شامل ہے۔ دوسرے مرحلہ کا اثر کئی گھنٹوں تک رہ سکتا ہے اور اس میں اکثر غیرفعالیت­شامل ہوتی ہے، حالانکہ دماغ کی سرگرمی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ مستقل استعمال کرنے والوں کے لیے دوسرا مرحلہ ممکنہ حد تک کافی کم وقفے کا ہوتا ہے­۔ THC جسم اور دماغ میں چربی کے نسیجوں روکتا ہے۔ مستقل استعمال کرنے والوں کو اکثر دائمی غیرفعالیت اور افسردگی کا سامنا ہوتا ہے، اور اس کے نتیجے میں زیادہ تر لوگ مستقل طور پر پہلے مرحلہ کا تجربہ کرنے کے لیے زیادہ کثرت سے پیتے ہیں۔   حشیش پر نفسیاتی انحصار کے شدید احساس کا تجربہ ہوسکتا ہے۔ دیگر متعدد منشیات کی طرح ہی، حشیش کا انحصار صارفین کے ­تجربہ، توقعات اور سماجی تناظر پر ہے۔

سنتھیٹک کینابینوائڈس حشیش جیسے اثر والی ایک مصنوعی نشہ آور شئے ہے ­۔ یہ پاؤڈر کی شکل کا ہوتا ہے اور اس کی مختلف قسموں کی کافی تعداد موجود ہے۔ یہ بہت سے آن لائن اسٹورز کے ذریعہ مسالہ، ہربل اسموک اور ہربل ہائی کے ناموں سے فروخت ہوتی ہیں۔ اسے زیادہ تر سگریٹ میں پیا جاتا ہے، لیکن اسے کھایا اور سونگھا بھی جاسکتا ہے۔ نشہ مزاج میں جولانی لاتا ہے اور اس کے اثرات میں مزاج میں بہتری سے لے کر جوش و ہیجان اور توانائی سے لے کر ذہنی اختلال، متلی اور سر میں چکر تک شامل ہیں ­۔ اس کی تیاری اس کے فعال اجزاء کی مقدار کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔ یہ اسے غیرمستحکم نشہ آور شئے بناتا ہے۔

کچھ ممالک میں، کھاٹ چبانا ویسا ہی ثقافتی اور سماجی عمل ہے جیسا کہ مغرب میں الکحل اور کافی پینا ہے۔ نشہ کا اثر فراہم کرنے کے لیے کھاٹ تازہ ہونا چاہئے، جیسے استعمال سے 2-4 دن پہلے توڑا گيا ہو۔ منہ بھر کھاٹ کو چبایا جاتا ہے اور کچھ دیر کے لیے منہ میں رکھا جاتا ہے تاکہ فعال مادوں کو تحریک ملے۔   کیتھینون، کیتھین اور نوریفیڈرائن مادے منہ کے استر، اور جزوی طور پر آنت کے ذریعہ دوران خون میں جذب ہوجاتے ہیں۔ صارف کے چبانا شروع کرنے کے بعد دو گھنٹوں کے اندر خون میں کیتھینون کا ارتکاز سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ پتیوں کو تین سے چار گھنٹے تک چبایا جاتا ہے اور اس کے اثر کو اکثر کیفین کی بڑی خوراک یا ایمفیٹامائنز کی چھوٹی خوراک کے بطور بیان کیا جاتا ہے (تاہم، کھاٹ کا اثر، ہمیشہ ایمفیٹامائنز کے اثر سے کمزور ہوتا ہے)۔ کھاٹ کو نگلنے پر، جسم گرم ہوجاتا ہے، دل تیزی سے دھڑکتا ہے اور فشار خون بڑھ جاتا ہے۔ استعمال کنندہ کو چستی اور شادمانی کے اثر کا تجربہ ہوتا ہے۔ کھاٹ کی زیادہ خوراک لینے کے سبب آنکھیں سرخ اور دانت خراب ہوجاتے ہیں جو کہ پتیوں کے مواد کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ کھاٹ کے نتیجے میں استعمال کنندہ اپنی صلاحیتوں کو بڑھا ہوا اور خود کو بہت بہادر سمجھنے لگتا ہے۔

کوکین سب سے زیادہ لت لگانے والی نشہ آور شئے ہے۔ کوکین پاؤڈر کی شکل میں آتا ہے۔ اسے لینے کا سب سے عام طریقہ اسے سونگھنا ہے۔ اسے انجیکشن کے ذریعہ اور قلمی شکل میں سگریٹ کے ذریعہ پیا جاسکتا ہے، جسے کریک کوکین­  بھی کہا جاتا ہے۔ کوکین بہت تیز ہوتا ہے لیکن قلیل اثر ہوتا ہے، عام طور پر اس کا اثر 15-60 منٹ تک رہتا ہے۔ کریک کو سگریٹ کے ذریعہ لینے سے فوری طور پر نشہ ہوتا ہے، لیکن لگ بھگ 10 منٹ کے بعد اپنے آپ اترنا شروع ہوجاتا ہے۔

کوکین دل اور دماغ پر زیادہ دباؤ ڈالتا ہے۔ جسمانی علامات میں دل کی دھڑکنوں کا بڑھ جانا، فشار خون میں اضافہ، تیز سانس، آنکھ کی پتلیوں کا پھیلنا، عضلات میں کپکپاہٹ اور جسم کے درجہ حرارت میں اضافہ شامل ہیں۔ استعمال کنندہ کو بےچینی، ہیجان زدگی، انتہائی اضطراب کے ساتھ دہشت کا بھی احساس ہوتا ہے۔  منشیات سے فرد عزت نفس میں کافی اضافہ محسوس ہوتا ہے اور استعمال کنندہ کو چست اور چوکننا ہونے کا احساس ہوتا ہے۔

LSDکو عموما منہ سے لیا جاتا ہے، عام طور پر یہ کاغذ کے ٹکڑے، چینی، جیلاٹن، یا سیال پر مشتمل ہوتا ہے۔  LSD کی معمول کی خوراک 50 سے 200مائیکرو گرام ہے۔  LSDکے اثرات کچھ عوامل پر منحصر ہیں جیسے کہ گزشتہ تجربہ، رویہ، ماحول اور خوراک کی قوت۔  LSD کا اثر 8 اور 14ھنٹوں تک رہتا ہے۔  اس وقفے کے دوران LSDکے سبب الجھن یا شدید اضطراب والے وقفوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔  LSDکے جسمانی اثرات ہلکے ہوتے ہیں اور اس میں پھیلی ہوئی پتلیاں، اشتہا کی کمی، متلی، اور فشار خون اور جسم کے درجہ حرارت میں تھوڑا اضافہ ہوتا ہے۔  LSDکی مضبوط یا مکمل قوت برداشت اس کے استعمال کے دو تین دونوں بعد فروغ پاتی ہے اور تین دن تک استعمال نہ کرنے پر ختم ہوجاتی ہے۔

GHB (گاما-ہائڈراکسی بیوٹریٹ) پاؤڈر اور کیپسول کی شکل میں دستیاب ہے لیکن ناروے میں GHBعام طور پر سیال کی شکل میں فروخت ہوتا ہے۔  سیال کی شکل میں GHBشفاف یا زردی مائل سیال کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ یہ ہلکا چپچپا ہوتا ہے اور اس میں پیرافین جیسی ہلکی بو آسکتی ہے۔ استعمال کنندگان اکثر اسے بلبلے دار مشروبات یا جوس میں ملاتے ہیں کیونکہ اس کا ذائقہ تلخ ہوتا ہے، اور ­اس کی خوراک کی مقدار بوتل کے ڈھکن جتنی ہوتی ہے۔

GHB کی وجہ سے نشہ ہوسکتا ہےجس میں استعمال کنندہ فرحت محسوس کرتا ہے اور عام طور پر سرور 15-30 منٹ کے بعد آتا ہے۔ GHB کی خوراک کی پیمائش کرنا بہت مشکل ہے، اس لیے اسے زیادہ خوراک کے خطرے سے وابستہ غیرمستحکم مادہ کہا جاتا ہے۔”

بینزو ڈائزیپینس نسخہ جاتی دوا ہے لیکن غیرقانونی بازار میں بھی دستیاب ہے۔ بینزو ڈائزیپینس کا سکون اور اطمینان بخش اثر ہوتا ہے اور یہ پٹھوں کو آرام پہنچاتا ہے۔ اس دوا کو اضطراب کے عوارض، دورے، بے خوابی اور مرگی جیسی کیفیات میں طبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دوا وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہے، لیکن ان مادوں کا وسیع پیمانے پر غلط استعمال بھی ہوتا ہے۔ منشیات کے بیجا استعمال میں عام طور پر مسکّن دوا کو دوسرے نشہ آور اشیاء کے ساتھ استعمال کرنا شامل ہے۔ منشیات لت کو تحریک دیتی­ ہیں اور ایک عرصے تک استعمال کے بعد افسردگی والے اثرات ہوتے ہیں، اور ایسی صورت میں اسے بیجا استعمال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جہاں استعمال کنندہ کی اس لت کو چھڑانے کے لیے کوئی ادارہ ہی ایک اختیار ہوسکتا ہے۔

انڈروجینک انابولک اسٹیرائڈز کو اسپرے یا گولیوں کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ معاملوں میں اسے جلد پر کریم یا جیل کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس دوا کا استعمال دونوں جنسوں میں عضلات کے نشونما کو فروغ دینے کے لیے کیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اسٹیرائڈز کا استعمال طبی طور پر کرتے ہیں – یعنی استعمال کنندہ ایک مخصوص وقت میں متعدد خوراک لیتا ہے، کچھ وقفے کے لیے رکتا ہے اور پھر شروع کرتا ہے۔ استعمال کنند‏گان اکثر و بیشتر مختلف قسم کے اسٹیرائڈز کو ایک طریق کار کے تحت ملا دیتے ہیں جسے “اسٹیکنگ” کہا جاتا ہے۔ اسٹیرائڈ استعمال کرنے کے متعدد ضمنی اثرات ہوتے ہیں، جس میں اسٹیرائڈز کا استعمال بند کرنے پر کچھ عارضی (قابل واپسی)، جبکہ دوسرے مستقل ہوتے ہیں۔  اضطراب، مہاسے اور بال جھڑنا عام طور پر عام ضمنی اثرات ہیں۔ پیداواری کے ناقص ماحول کے نتیجے میں ہیپاٹائٹس کا خطرہ ہے۔

امفیٹیمائن مرکزی اعصابی نظام کو تحریک دیتا ہے۔ امفیٹیمائن کے سینکڑوں مرکبات اور مادے ایسے ہیں جو امفیٹیمائن سے مشابہ ہے۔ اسے اکثروبیشتر اسپیڈ، مکاّ، پیپر یا لیسز کہا جاتا ہے۔ اس نشہ آور شئے کو عام طور پر سانس کی نلی کے ذریعہ لیا جاتا ہے، لیکن کچھ لوگ تیز اور شدید تر اثر کے لیے انجیکشن کے ذریعہ بھی لیتے ہیں۔ ایمفیٹامائنز صرف دماغ کو ہی نہیں بلکہ دل، پھیپھڑے اور دوسرے اعضاء کو بھی متاثر کرتا ہے۔ کیمیائی اصطلاح میں، میتھامفیٹامائن کا امفیٹیمائن سے قریبی رشتہ ہے اور میتھامفیٹامائن اور امفیٹیمائن کے اثرات کافی مشابہ ہیں۔ میتھامفیٹامائن کو گرم کیا جاتا ہے اور دھوئیں کو سونگھا جاتا ہے۔ میتھامفیٹامائن اکثر امفیٹیمائن سے زیادہ تیز تر نشہ آور اثر فراہم کرسکتا ہے۔ منشیات کے اثرات میں چستی، اشتہا میں کمی، توانائی، گھبراہٹ اور باتونی پن شامل ہیں۔ صارف استعمال کے دوران اکثر اپنی اہلیت­ کے بارے میں بڑھ چڑھ کر باتیں کرتے ہیں اور نشہ آور شئے کی وجہ سے دل اور عروقی نظام میں تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ ذہنی اختلال اور اضطراب عام ضمنی اثرات ہیں۔

ایکسٹیسی ایک سنتھیٹک کیمیکل ہے جو کہ توانائی (ایک محرک­) اور فریب خیال (واہمہ)دونوں ہی پیدا کرتا ہے۔ ایکسٹیسی کو عام طور پر ٹیبلٹ یا کیپسول کی شکل میں لیا جاتا ہے جس پر رنگ اور امتیازی علامات جیسے کہ مسکراتا چہرہ اور سکون کی علامات اس کے عرفی نام E, XTC، دوائے محبت، اسنیپ وغیرہ ہوتا ہے۔ ایکسٹیسی میں فعال جز عام طور پر MDMA (میتھائلینیڈائی آکسی میتھامفٹیمائن) ہے۔

(میتھائلینیڈائی آکسی میتھامفٹیمائن) ایک نشہ آور شئے جو گولیوں کی شکل میں دستیاب ہے۔  پیشگی طور پر یہ کہنا بہت مشکل ہوگا کہ ٹیبلٹس کتنی طاقتور تیز ہیں، اس لیے MDMAلینا ایک جوا ہوسکتا ہے۔  MDMAکی وجہ سے اچانک اور بے ترتیب تیز نشہ چڑھتا ہے، جو کہ کافی دیر تک رہتا ہے اور مزاج میں قابل ذکر افسردگی کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔ سرور آنے میں تھوڑا وقت لگ سکتا ہے۔ اس میں استعمال کنندہ کے ذریعہ بھر پور نشہ پانے کیلئے زیادہ خوراک لینے کا خطرہ رہتا ہے۔ بھرپور نشہ صارف کو چست اور حساس بنادیتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں شاید ہی پتہ ہوتا ہے لی گئی گولی میں کیا شامل ہے۔  کسی سرگرمی کے ساتھ MDMAلینے کی وجہ سے دل اور دماغ پر نمایاں تناؤ پیدا ہوسکتا ہے۔

نشے والا اثرلگ بھگ 30 منٹ کے بعد ہوتا ہے اور 2-3 گھنٹے یا زیادہ دیر تک رہ سکتا ہے۔ شديد جوش وخروش، بڑھی ہوئی توانائی اور وقت کے احساس میں کمی کے ساتھ مزاج میں بہتری آتی ہے۔ ایکسٹیسی کے استعمال سے تیز نبض، زیادہ بلڈپریشر اور جسم کی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔ MDMA کا سیروٹونن میٹابولزم پر کافی گہرا اثر معلوم پڑتا ہے۔ سیروٹونن خوشی، اضطراب، مزاج اور سونے سے متعلق باقاعدہ عمل کے لیے اہم ہے، اور یہ حسی ان پٹ کی تشریح کے لیے اہم ہے۔

افیم ایسے متعدد مادوں کے لیے بنیادی اصطلاح ہے جو کہ افیم کی پوست (خواب آور) سے بنتا ہے، یا اس کے مساوی اثر کے ساتھ مصنوعی طور پر بنایا جاتا ہے۔ ہیروئن اور دوسرے افیمی اثرات خوراک، استعمال کنندہ کے سابقہ تجربہ، اسے لینے والے ماحول اور مادے کو لینے کے طریقے پر منحصر ہیں۔

افیم کا استعمال سے عام طور پر  خودستائی کے ساتھ خوشی کا احساس پیدا کرتا ہے اور استعمال کنندہ روزمرہ کی زندگی کے مسائل کا سامنا کرنے میں عدم دلچسپی ظاہر کرتا ہے۔ نشہ، حالات سے فرار کی صورتحال تک پہنچ سکتا ہے جہاں بھوک، درد اور روزمرہ کی ضروریات کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ البتہ، اس کے اثرات میں متلی اور الٹی کے ساتھ بے چینی اور تھکان بھی ہوسکتے ہیں۔ ہیروئن کی مخصوص خوراک کا اثر عام طور پر 4-6 گھنٹے رہتا ہے، لیکن یہ کافی مختلف ہوسکتا ہے۔ کچھ عرصے کے بعد، ہیروئن متوسط پروڈکٹ میں تبدیل ہوجاتا ہے جو کہ جسم میں بھی تیزی سے مارفین میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ منشیات کا پتہ پیشاب میں 3-4 دنوں تک لگایا جاسکتا ہے۔